یاد رہے کہ
تلقین
مسلمانوں یا مومنوں کی نسبت ہی ہوسکتی ہے۔ خدا کی نسبت نہیں ہوسکتی۔
حضرت مرزا بشیر
احمد ایم۔ اے (فرزند مسیح موعود) فرماتے ہیں؛
قرآن شریف خاص خلافت و امارت کے
سوال میں بھی قومی یا خاندانی حق کے خیال کو رد کرتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ
قرآن شریف میں فرماتا ہے؛(النساء: 59) یعنی خدا تعالیٰ
تمہیں حکم دیتا ہے
کہ حکومت کی باگ ڈورصرف اہل لوگوں کے سپرد کیا کرو (خواہ وہ کوئی ہوں) اور جو
لوگ امیر منتخب ہوں انہیں چاہئیے کہ اپنی حکومت کو عدل و انصاف کے ساتھ
چلائیں۔ اس آیت میں خلیفہ
یا امیر کے لئے صرف یہ شرط رکھی گئی ہے کہ وہ حکومت کا اہل ہو اور اس کے
علاوہ کوئی اور شرط نہیں لگائی گئی جو اس بات کی یقینی دلیل ہے کہ اسلام میں
خلیفہ یا امیر کے لئے اہلیت کے سوا کوئی شرط نہیں ہے۔
|
سیرت خاتم النبیین، صفحہ645، کیا امارت کا حق صرف قریش کے ساتھ مخصوص ہے؟
یعنی”انتخاب خلافت کمیٹی“ کی نسبت عمل صالح کی شرط جس کا ذکر سورہ النور آیت 56 میں
ہے اس کی نوعیت اور کیفیت کا بیان ہے۔ کہ ان پر جو ذمہ داری اللہ کی طرف سے ڈالی
گئی ہے وہ یہ ہے کہ اہل شخص کو ووٹ دیں۔ پس جب خلافت کمیٹی کے ممبران اس حکم کی
اطاعت کریں گے تو انکا انتخاب گویا خدا کا انتخاب کہلائے گا۔ کیونکہ ہر وہ فعل وہ
خدا کے اھکامات پر عمل کے نتیجہ میں ہوتا ہے خدا کی طرف منسوب ہوتا ہے۔ جیسا کہ
مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا؛
جب انسان جذبات نفس سے پاک ہوجاتا ہے اور نفسانیت چھوڑ کر
خدا کے ارادوں کے اندر چلتا ہے
اسکا کوئی فعل ناجائز نہیں ہوتا ، بلکہ ہر ایک فعل خدا کے منشاء کے موافق
ہوتا ہے اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ
خدا اسے اپنا فعل ہی قرار دیتا ہے۔
|
ملفوظات
جلد ۱، صفحہ 117۔ جدید ایڈیشن
کیونکہ جو فعل خدا کے ارادوں کے مطابق نہ ہو اسے
خدا کی طرف منسوب نہیں کیا جاسکتا، بلکہ ایسا فعل انسان کے ذاتی جذبات کا نتیجہ
ہوتا ہے۔ جیسا کہ مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا؛
بات یہ ہے کہ جب انسان جذبات نفس سے پاک ہوتا اور نفسانیت چھوڑ کر خدا کے
ارادوں کے اندر چلتا ہے ،اسکا کوئی فعل ناجائز نہیں ہوتا بلکہ ہر ایک فعل خدا
کے منشاء کے مطابق ہوتا ہے۔ جہاں لوگ ابتلاء میں پڑتے ہیں وہاں یہ امر ہمیشہ
ہوتا ہے کہ وہ فعل
خدا کے ارادوں کے مطابق نہیں ہوتا۔ خدا کی رضا اسکے برخلاف ہوتی ہے۔ایسا شخص
اپنے جذبات کے نیچے چلتا ہے۔
|
ملفوظات جلد ۱، صفحہ 9۔ جدید ایڈیشن
جس
طرح عیسائی لوگ پچھلے دو ہزار سالوں سے اپنے جذبات کے نیچے چل رہے ہیں۔ اور اپنی
مذہبی ترقی اور پاپائیت کو خدا کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ جبکہ وہ اپنے اس اعتقاد میں
سخت غلط فہمی کا شکار ہیں۔ وہ خود کو اور دنیا والوں کو دھوکے میں رکھ رہے ہیں۔
انہیں اپنی خلافت اور دنیاوی ترقیات کو خدا کی طرف منسوب کرنے کا کوئی حق نہیں
پہنچتا۔



